ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حکومت کے تحریری تیقن کے بعد بس ہڑتال ختم، ریاست بھر میں بسوں کی سرویس بحال۔ حکومت 9 مطالبات پورے کرے گی 

حکومت کے تحریری تیقن کے بعد بس ہڑتال ختم، ریاست بھر میں بسوں کی سرویس بحال۔ حکومت 9 مطالبات پورے کرے گی 

Tue, 15 Dec 2020 11:13:21    S.O. News Service

بنگلورو،15؍دسمبر(ایس او  نیوز) سرکاری ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے ملازمین نے انہیں سرکاری ملازمین کا درجہ دینے کا مطالبہ پورا ہوئے بغیر ہی آج دوپہر اپنی 4 روزہ ہڑتال واپس لے لی۔ اس کے ساتھ ہی پوری ریاست میں سرکاری بسوں کی سرویس شام 4 بجے سے ہی بحال ہوگئی ہے۔

حکومت نے آج ہڑتالی ملازمین کے 10 مطالبات میں  سے 9 مطالبات پورے کرنے تحریری تیقن دینے کے بعد ٹرانسپورٹ ملازمین نے ہڑتال واپس لے لی ہے۔ ملازمین کے 10 مطالبات میں سے حکومت نے ایک مطالبہ انہیں سرکاری ملازمین کا درجہ دینے کی مانگ کو پورا کرنے سے انکار کردیا ۔ پرسوں جمعہ کے دن صبح ٹرانسپورٹ ملازمین نے بسوں کی سرویس بند کر کے ہڑتال شروع کردی تی۔ آج یہ ہڑتال چوتھے دن میں داخل گئی تھی ۔

حالانکہ حکومت کل اتوار کے دن ہی ان کے اکثر مطالبات کو پورا کرنے راضی ہوگئی تھی لیکن ہڑتالی ملازمین نے مانگ کی کہ متعلقہ وزیر خود یہاں آئیں اور ہڑتال ختم کرنے سے قبل انہیں تحریری تیقن دیں ۔ ایک میٹنگ کے بعد وزیر اعلیٰ نے بی ایم ٹی سی چیرمین  نندیش ریڈی کو ہدایت دی کہ وہ فریڈم پارک جا کر تحریری تیقن نامہ ہڑتالی ملازمین کے حوالے کریں۔ اس ہڑتال کو ختم کروانے نائب وزیر اعلیٰ لکشمن ساودی، وزیر مالگزاری آر اشوک، وزیر داخلہ بسواراج بومئی ملازمین کے نمائندوں کے ساتھ کئی راؤنڈس کے اجلاس منعقد کئے۔ 

کرناٹکا ٹرانسپورٹ محکمے میں تقریباً 37،019 ملازمین کی تعداد ہے جو چار ذیلی اداروں کے ذریعہ 17،138 بسوں کو چلاتے ہیں جن میں کے ایس آر ٹی سی، بی ایم ٹی سی ، این ای کے آر ٹی سی اور این ڈبلیو آر ٹی سی شامل ہیں۔ ان جملہ بسوں میں سے بی ایم ٹی سی کی 6،500 بسیں ، کے ایس آر ٹی سی کی 5،500 بسیں ہیں اور بقیہ بسیں دیگر دو کارپوریشنوں ، این ای کے آر ٹی سی اور این ڈبلیو آر ٹی سی سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ بسیں مختلف شہروں ، دیہاتوں کے علاوہ دیگر پانچ پڑوسی ریاستوں آندھرا پردیش  ، کیرالہ ، مہاراشٹرا ، تمل ناڈو اور تلنگانہ کو بھی دوڑائی جاتی ہیں۔ جمعرات سے اچانک جزوی  ہڑتال سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں پرائیویٹ بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کا مجبوراً استعمال کرنا پڑا۔ 

ریاست میں پچھلے دنوں لاک ڈاؤن اور کورونا رہنما خطوط کے مطابق سماجی فاصلہ پر عمل کرنے ان بسوں میں گنجائش سے صرف 50 فیصد مسافروں کو بٹھانے کی وجہ سے تمام چار کار پوریشنوں کو بھار ی نقصان ہوا ہے، اس لئے ماہ نومبر تک تاخیر سے  تنخواہ لے رہے تھے۔ 

کرناٹک راجیہ رعیت سنگھ کے صدر کوڈہلی چندر شیکھر نے اس ہڑتال کی قیادت کی تھی۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے انہیں کسان لیڈر کہتے ہوئے بات چیت سے انکار کردیا تھا۔ 


Share: